دکانوں کی الماریاں پروٹین پاؤڈر کے ڈبوں سے بھری ہیں — وہے، کیسین، پلانٹ بیسڈ، آئسولیٹ — اور ہر ڈبہ 'بہترین' ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ الجھن میں پیسے ضائع کرنے سے پہلے یہ بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ صحیح پروٹین کا انتخاب آپ کے مقصد پر منحصر ہے، اشتہار پر نہیں۔
پروٹین کی بنیادی اقسام
وہے پروٹین دودھ سے بنتا ہے، جلدی ہضم ہوتا ہے اور ورزش کے بعد پٹھوں کی بحالی کے لیے مقبول ترین ہے۔ کیسین بھی دودھ سے بنتا ہے لیکن آہستہ ہضم ہوتا ہے — رات کو سونے سے پہلے بہترین۔ پلانٹ پروٹین (مٹر، چاول، سویا) دودھ سے الرجی والوں کے لیے اچھا متبادل ہے۔ عام فٹنس مقاصد کے لیے وہے پروٹین سب سے آزمودہ انتخاب ہے۔
آپ کو کتنی پروٹین چاہیے؟
عام بالغ کو روزانہ فی کلو وزن پر تقریباً 0.8 سے 1 گرام پروٹین چاہیے، جبکہ ورزش کرنے والوں کو 1.2 سے 2 گرام تک درکار ہوتی ہے۔ پہلے اپنی خوراک سے ملنے والی پروٹین کا حساب لگائیں — شاید آپ کو سپلیمنٹ کی ضرورت ہی نہ ہو۔ پاؤڈر خوراک کا متبادل نہیں، صرف کمی پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔
لیبل پڑھنا سیکھیں
اجزاء کی فہرست میں پروٹین پہلے نمبر پر ہونی چاہیے، چینی کم سے کم۔ 'پروٹین بلینڈ' لکھے ڈبوں میں اکثر سستی فلر زیادہ ہوتی ہے۔ تیسرے فریق کی ٹیسٹنگ (third-party tested) کا لیبل معیار کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر لیبل میں چینی پہلے تین اجزاء میں ہو تو وہ ڈبہ واپس رکھ دیں۔
کب اور کیسے استعمال کریں؟
ورزش کے بعد 30 سے 60 منٹ کے اندر پروٹین شیک پٹھوں کی بحالی میں مدد دیتا ہے۔ اسے پانی یا دودھ میں ملا کر پیا جا سکتا ہے، یا دلیے اور اسموتھی میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ روزانہ کی کل پروٹین مقدار اہم ہے، صرف وقت نہیں۔
احتیاطی ٹپس
گردے کے مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر زیادہ پروٹین نہ لیں۔ بہت زیادہ پروٹین پیٹ کی تکلیف اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی بھی سپلیمنٹ سے پہلے متوازن خوراک کو ترجیح دیں — انڈے، دالیں، دودھ اور گوشت بہترین قدرتی ذرائع ہیں۔