انک کارٹریجز بہت مہنگے ہوتے ہیں — فی لیٹر اچھے شیمپین سے بھی مہنگے۔ انک ٹینک پرنٹرز نے یہ کھیل بدل دیا: چھوٹے کارٹریجز کی بجائے ان میں بڑے ریفل ٹینک ہوتے ہیں جنہیں آپ بوتلوں سے بھرتے ہیں اور ایک بوتل ہزاروں صفحات چھاپ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ فی صفحہ لاگت نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے۔

فی صفحہ اصل لاگت خود نکالیں

ایک عام کارٹریج تقریباً 200–300 صفحات چھاپتا ہے اور تقریباً 3,500 روپے کا آتا ہے؛ اتنی ہی قیمت کی کالی انک کی بوتل 4,000–6,000 صفحات چھاپ دیتی ہے۔ حساب لگائیں: (پرنٹر کی قیمت + دو سال کی انک) ÷ متوقع صفحات۔ مہینے میں 50 سے زائد صفحات چھاپنے والوں کے لیے ٹینک پرنٹر پہلے سال میں ہی بازی لے جاتا ہے۔ سستا تو پرنٹر ہے؛ اصل کاروبار انک کا ہے۔ اس ماڈل کو الٹ دیں اور جیت آپ کی۔ وارنٹی کے دوران کمپنی کی انک ہی استعمال کریں۔

اپنے استعمال کے حجم کے مطابق مشین چنیں

ہلکے گھریلو استعمال کے لیے کمپیکٹ تھری اِن ون ماڈل کافی ہے: پرنٹ، اسکین، کاپی۔ ہفتے میں سینکڑوں صفحات چھاپنے والے چھوٹے کاروباروں کو بڑے ٹینک اور تیز رفتار والے ماڈل چاہئیں۔ فوٹو کے شوقین چھ انک والے سسٹم دیکھیں جن میں گرے یا فوٹو بلیو ہو۔ ہفتے میں دس صفحات کے لیے دفتر والی بھاری مشین لینا ایسا ہے جیسے سودا لانے کے لیے ٹرک خریدنا۔

پرنٹ ہیڈ اور کاغذ کی ہینڈلنگ میگا پکسل سے اہم ہے

ٹینک پرنٹر انک اتنی آہستہ خرچ کرتے ہیں کہ ہفتوں بند رہنے پر پرنٹ ہیڈ جام ہو سکتے ہیں — ایسے ماڈل چنیں جن میں خودکار مینٹیننس سائیکل ہو اور پرنٹ ہیڈ خود بدلے جا سکیں۔ پچھلی طرف سے کاغذ ڈالنے والا فیڈ موٹے کارڈ اور لفافے بغیر پھنسے سنبھال لیتا ہے۔ نوزل صحت مند رکھنے کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک رنگین صفحہ ضرور چھاپیں۔

2026 کے وہ فیچرز جن پر پیسہ لگانا درست ہے

وائی فائی ڈائریکٹ اور موبائل سے پرنٹنگ اب بنیادی ہیں — ان کے بغیر کوئی ماڈل نہ لیں۔ اچھی ٹچ اسکرین، A4 تک بارڈر لیس فوٹو پرنٹنگ اور ٹینک خالی ہونے سے پہلے خبردار کرنے والے سینسر دیکھیں۔ روز استعمال ہونے والی کنیکٹیویٹی اس اسپیک شیٹ سے بہتر ہے جسے آپ ایک بار پڑھتے ہیں۔

اپنے استعمال کے مطابق ٹینک پرنٹر چنیں اور ہر ہفتے چھاپتے رہیں۔