ہم اپنا نوے فیصد وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں مگر اندر کی ہوا اکثر باہر سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے۔ دھول، کیمیکل اور نمی صحت پر خاموش اثر ڈالتے ہیں۔ گھر کی ہوا کا معیار بہتر بنانا اب مشکل نہیں۔
آلودگی کے چھپے ذرائع
کھانا پکانے کا دھواں، صفائی کے کیمیکل، نیا فرنیچر اور نمی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔ قالین اور پردے دھول جمع کرتے ہیں۔ باورچی خانے میں ایگزاسٹ فین چلانا اندر کی ہوا صاف رکھنے کا سب سے آسان قدم ہے۔ موم بتیوں اور ائیر فریشنر کا کم استعمال کریں۔
ایئر پیوریفائر کا انتخاب
HEPA فلٹر والا پیوریفائر باریک ذرات پکڑتا ہے۔ کمرے کے سائز کے مطابق CADR ریٹنگ چیک کریں۔ کمرے سے چھوٹا پیوریفائر خریدنا پیسے ضائع کرنے کے برابر ہے۔ فلٹر بدلنے کی لاگت بھی خریداری سے پہلے معلوم کر لیں۔
قدرتی طریقے
روزانہ کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا آنے دیں۔ انڈور پودے نمی متوازن رکھتے ہیں اور ذہنی سکون دیتے ہیں۔ روزانہ دس منٹ کی وینٹیلیشن بھی اندر کی ہوا کو نمایاں بہتر بنا دیتی ہے۔ بستروں کی چادریں ہفتے میں ایک بار دھوئیں۔
نمی کا توازن
زیادہ نمی سے پھپھوندی اور کم نمی سے جلد اور سانس کے مسائل ہوتے ہیں۔ چالیس سے ساٹھ فیصد نمی مثالی ہے۔ سستا ہائیگرومیٹر لگا کر نمی پر نظر رکھنا صحت کی بہترین سرمایہ کاری ہے۔ باتھ روم میں ایگزاسٹ فین ضرور چلائیں۔
بچوں اور بزرگوں کی خصوصی حفاظت
بچے اور بزرگ آلودہ ہوا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے کمروں میں ایئر پیوریفائر کو ترجیح دیں اور کھانا پکاتے وقت انہیں باورچی خانے سے دور رکھیں۔ حساس افراد کے کمروں کی ہوا کا معیار سب سے پہلے بہتر بنائیں۔ الرجی کے موسم میں کھڑکیاں بند رکھیں اور بستروں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
صاف ہوا صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ ان آسان اقدامات سے اپنے گھر کی ہوا آج ہی بہتر بنائیں اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھیں۔