گھر کی حفاظت کے لیے مہنگے الارم سسٹم یا چوکیدار رکھنا ضروری نہیں۔ اکثر چوریاں موقع دیکھ کر ہوتی ہیں، اور چند سستے اقدامات سے آپ کا گھر چوروں کے لیے غیر پرکشش ہدف بن سکتا ہے۔ یہ دس تجاویز کم خرچ میں زیادہ تحفظ دیتی ہیں۔

دروازے اور تالے مضبوط کریں

زیادہ تر نقب زنی کمزور دروازے یا سستے تالے سے ہوتی ہے۔ ڈیڈ بولٹ تالا لگوانا سب سے سستا اور مؤثر قدم ہے — یہ عام تالے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ دروازے کے قبضے اندر کی طرف ہوں، اور کھڑکیوں پر سادہ گرل یا تالے لگوائیں۔ پرانے تالے جن کی چابیاں کئی لوگوں کے پاس ہوں، انہیں فوراً تبدیل کریں۔

روشنی چور کا دشمن ہے

اندھیرا چور کا بہترین دوست ہے۔ گھر کے باہر موشن سینسر والی بتی لگوائیں — کوئی قریب آئے تو روشنی خود جل اٹھے، اور یہ بتیاں اب بہت سستی ملتی ہیں۔ رات کو گھر کے اندر ایک دو بتیاں جلتی چھوڑنے سے باہر سے لگتا ہے کہ کوئی موجود ہے۔ صحن اور پچھلے حصے کو اندھیرے میں نہ چھوڑیں۔

سستے کیمرے اور ان کی چالاکی

آج کل وائی فائی والے چھوٹے کیمرے مناسب قیمت میں ملتے ہیں جو موبائل پر براہ راست منظر دکھاتے ہیں۔ مرکزی دروازے اور پچھلے راستے پر کیمرہ لگائیں۔ ایک چالاک ترکیب: کیمرے کی موجودگی کا اسٹیکر لگانا بھی چور کو ڈراتا ہے، چاہے کیمرہ ہر جگہ نہ بھی ہو۔ مگر اہم مقامات پر اصل کیمرہ ضرور ہو۔

ہمسائیوں سے تعلق بنائیں

اچھے ہمسائے مفت کا سیکیورٹی سسٹم ہیں۔ ایک دوسرے کے گھر پر نظر رکھنے کا غیر رسمی معاہدہ کریں، اور سفر پر جائیں تو ہمسائے کو بتا دیں۔ مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دینا سب سے قیمتی عادت ہے۔ محلے کا واٹس ایپ گروپ بھی اس کام میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

روزمرہ کی عادات بدلیں

دروازہ ہر وقت بند رکھیں، چاہے گھر میں ہوں۔ قیمتی چیزیں کھڑکی سے نظر نہ آئیں — پردے استعمال کریں۔ سوشل میڈیا پر سفر کی پوسٹ روانگی سے پہلے نہ لگائیں، ورنہ سب کو معلوم ہو جائے گا کہ گھر خالی ہے۔ چابی دروازے کے قریب یا ڈور میٹ کے نیچے کبھی نہ رکھیں۔ یہ مفت عادتیں مہنگے سسٹم سے زیادہ کام کی ہیں۔