سبزیوں کے چھلکے، چائے کی پتی اور انڈے کے چھلکے — یہ کچرا نہیں، آپ کے پودوں کی بہترین خوراک ہے۔ کمپوسٹنگ سے کچن کا کچرا مفت، قدرتی اور کیمیکل سے پاک کھاد میں بدل جاتا ہے۔ طریقہ اتنا آسان ہے کہ چھت یا بالکونی میں بھی ہو جاتا ہے۔
کمپوسٹ بن کہاں رکھیں
ہوا دار ڈبہ، پرانا ڈرم یا مٹی کا گھڑا — سائے والی جگہ پر رکھیں۔ بن میں نیچے سوراخ ضرور ہوں تاکہ اضافی پانی نکل سکے اور ہوا آتی رہے۔
کیا ڈالیں، کیا نہیں
سبزی پھل کے چھلکے، چائے کی پتی، انڈے کے چھلکے اور سوکھے پتے ڈالیں۔ گوشت، تیل والا کھانا اور دودھ کی چیزیں کبھی نہ ڈالیں — یہ بدبو اور کیڑے پیدا کرتے ہیں۔
سبز اور بھورے کا توازن
گیلے کچرے کے ساتھ سوکھے پتے یا اخبار بھی ڈالیں — تناسب برابر رکھیں۔ یہ توازن ہی اچھی کھاد کا راز ہے: صرف گیلا کچرا سڑتا ہے، گلتا نہیں۔
ہلائیں اور نمی رکھیں
ہفتے میں ایک بار کچرے کو الٹ پلٹ کریں اور ہلکا پانی چھڑکیں۔ نمی نچوڑے ہوئے اسفنج جیسی ہونی چاہیے — نہ خشک، نہ بھیگا ہوا۔ دو سے تین ماہ میں کھاد تیار۔
تیار کھاد پہچانیں
جب مواد کالا، بھربھرا اور مٹی جیسی خوشبو والا ہو جائے تو کھاد تیار ہے۔ پودوں کی جڑوں میں مٹھی بھر ڈالیں — یہ بازار کی کھاد سے بہتر اور بالکل مفت ہے۔
کمپوسٹ چائے بنائیں
تیار کھاد کو پانی میں بھگو کر چھان لیں — یہ مائع کھاد پودوں کے لیے طاقتور ٹانک ہے۔ کمپوسٹ چائے پودوں کو تیزی سے نشوونما دیتی ہے اور پتوں پر چھڑکنے سے کیڑے بھی دور رہتے ہیں۔
پڑوسیوں کو بھی سکھائیں
جب آپ کی کھاد تیار ہو جائے تو محلے والوں کو بتائیں — مل کر کمپوسٹ کرنا آسان اور سستا ہے۔ ایک محلہ جو کمپوسٹ کرتا ہے، وہ کچرے کی گاڑی کا آدھا بوجھ کم کر دیتا ہے۔