گرمیوں کے تازہ ٹماٹر، سردیوں میں بھی اسی ذائقے کے ساتھ — یہی گھر کی کیننگ کا جادو ہے۔ کیننگ سے آپ موسمی پھل، سبزیاں، اچار اور جام مہینوں تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن غلط طریقہ صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے حفاظت کے اصول سب سے پہلے سیکھیں۔

دو طریقے — کون سا کب استعمال کریں؟

تیزابی غذاؤں (ٹماٹر، اچار، جام، پھل) کے لیے ابلتے پانی کا غسل (water bath) کافی ہے۔ لیکن کم تیزابی غذاؤں (سبزیاں، گوشت، سوپ، دال) کے لیے پریشر کینر لازمی ہے — عام ابال بوٹولزم پیدا کرنے والے خطرناک جراثیم کو نہیں مارتا، صرف زیادہ دباؤ اور درجہ حرارت مارتا ہے۔ یہ فرق جان لیوا ہو سکتا ہے، اسے کبھی نظر انداز نہ کریں۔

صفائی اور جراثیم کشی

تمام جار اور ڈھکن استعمال سے پہلے ابلتے پانی میں اچھی طرح جراثیم سے پاک کریں۔ چٹخے ہوئے جار یا زنگ آلود ڈھکن کبھی استعمال نہ کریں — ان سے ہوا اندر جائے گی اور کھانا خراب ہو جائے گا۔ کام کی جگہ اور ہاتھ بھی صاف رکھیں۔

ہیڈ اسپیس اور تیزابیت کا خیال

جار بھرتے وقت اوپر 1 سے 2 سینٹی میٹر خالی جگہ (ہیڈ اسپیس) ضرور چھوڑیں تاکہ ابال کے دوران پھیلاؤ کی گنجائش رہے۔ ٹماٹروں اور ٹماٹر کی مصنوعات میں لیموں کا رس یا سٹرک ایسڈ ڈالیں تاکہ تیزابیت محفوظ سطح پر رہے۔ صرف آزمودہ اور مستند ترکیبیں استعمال کریں — اپنے اندازے سے اجزاء یا مقدار نہ بدلیں۔

سیل چیک کریں اور صحیح ذخیرہ کریں

ٹھنڈا ہونے پر ڈھکن کا درمیانی بٹن اندر دھنسا ہونا چاہیے۔ جار کھولتے وقت ہلکی "پاپ" کی آواز آنی چاہیے — یہ اچھی سیل کی نشانی ہے۔ ہر جار پر تاریخ اور مواد کا لیبل لگائیں، ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھیں، اور ایک سال کے اندر استعمال کر لیں۔

خطرے کی علامات — کبھی نظر انداز نہ کریں

پھولا ہوا ڈھکن، رسنے والا جار، عجیب بو یا رنگ بدلنا — ان میں سے کچھ بھی نظر آئے تو جار فوراً پھینک دیں، چکھ کر چیک کرنے کی کوشش بھی نہ کریں۔ بوٹولزم کے جراثیم نظر نہیں آتے مگر جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ شک ہو تو پھینک دینا ہی دانشمندی ہے۔

اصولوں پر عمل کریں تو کیننگ محفوظ، سستی اور بے حد مزیدار ہے۔ الماری میں قطار سے لگے اپنے ہاتھ کے بنے جار دیکھنے کی خوشی ہی کچھ اور ہے!