اسکرین کے سامنے گزرنے والے گھنٹے بڑھنے کے ساتھ بلیو لائٹ چشمے بھی ہر جگہ نظر آنے لگے ہیں۔ بنانے والی کمپنیاں دعوی کرتی ہیں کہ یہ چشمے آنکھوں کی تھکاوٹ کم کرتے ہیں، نیند بہتر بناتے ہیں اور آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
سائنس بلیو لائٹ کے بارے میں کیا کہتی ہے
2026 تک کی بڑی تحقیقات میں ایسا کوئی مضبوط ثبوت نہیں ملا کہ بلیو لائٹ چشمے آنکھوں کے نقصان کو روکتے ہیں۔ البتہ بعض تحقیقات بتاتی ہیں کہ شام کو بلیو لائٹ میلاٹونن ہارمون دبا کر نیند میں تاخیر کرتی ہے۔ بلیو لائٹ چشموں کا سب سے حقیقی فائدہ رات کو اسکرین استعمال کرنے والوں کی نیند کے معیار کی حفاظت ہے۔
آنکھوں کی تھکاوٹ کی اصل وجوہات
ڈیجیٹل آنکھوں کی تھکاوٹ کی بڑی وجہ بلیو لائٹ نہیں بلکہ دیر تک پلکیں جھپکائے بغیر اسکرین دیکھنا اور غلط فاصلہ ہے۔ 20-20-20 اصول اپنائیں یعنی ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ تک 6 میٹر دور کسی نقطے کو دیکھیں۔ اسکرین کو آنکھوں کی سطح سے تھوڑا نیچے رکھنا پلکوں کو زیادہ بند ہونے دیتا ہے اور خشکی نمایاں کم کرتا ہے۔
شیشہ منتخب کرتے وقت احتیاط
اگر بلیو لائٹ چشمہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو شیشہ کتنی بلیو لائٹ روکتا ہے اس کی ٹیسٹ رپورٹ ضرور مانگیں۔ معیاری شیشے تقریبا 20 سے 30 فیصد روشنی روکتے ہیں جبکہ سستے ماڈلز میں یہ شرح غیر واضح ہوتی ہے۔ اگر نمبر والا چشمہ لگاتے ہیں تو بلیو لائٹ کوٹنگ اسی شیشے میں لگوانا الگ چشمہ رکھنے سے زیادہ عملی ہے۔
بغیر چشمے کے متبادل طریقے
فون اور کمپیوٹر میں نائٹ موڈ شام کو آن کرنا بلیو لائٹ مفت میں کم کرتا ہے۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے اسکرین چھوڑ دینا نیند اور آنکھوں دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ سب سے مؤثر اور مفت حل یہ ہے کہ سونے کے کمرے میں فون نہ لے جائیں اور شام کو اسکرین کا وقت شعوری طور پر کم کریں۔
خلاصہ یہ کہ بلیو لائٹ چشمے کوئی معجزہ نہیں لیکن رات کو کام کرنے والوں کے لیے نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ چشمہ لیں تو اس سے معجزے کی امید نہ رکھیں بلکہ اسے اچھی عادتوں کا ساتھی سمجھیں۔ آنکھوں کا خیال رکھیں۔